ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی،مسلم پرسنل لاء بورڈ جو بھی فیصلہ کرے گا،مسلم قیادت شانہ بہ شانہ ساتھ رہے گی: روشن بیگ

یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی،مسلم پرسنل لاء بورڈ جو بھی فیصلہ کرے گا،مسلم قیادت شانہ بہ شانہ ساتھ رہے گی: روشن بیگ

Sat, 15 Oct 2016 12:07:13    S.O. News Service

بنگلورو،14؍اکتوبر(ایس اونیوز) مرکزی حکومت کی طرف سے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی پہل کرتے ہوئے لاء کمیشن کے ذریعہ سوالنامہ جاری کئے جانے کی ریاستی وزیر برائے شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ نے مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی اس حرکت کو مسلم پرسنل لاء اور قانون شریعت میں راست مداخلت قرار دیا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مرکز میں جب سے بی جے پی حکومت اقتدار پر آئی ہے ہر بار اس نے یہ کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کے مفادات کو کسی نہ کسی ذریعہ سے نقصان پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی جب سے وجود میں آئی ہے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنا اس کے ایجنڈا کا حصہ رہا ہے، اب جبکہ اس پارٹی کو اقتدار ملا ہے وہ اپنے ایجنڈا کو نافذ کرنے کی کوشش میں ہے۔ملک کی اقلیتیں بالخصوص مسلمان متحد ہوکر حکومت کی اس کوشش کو ناکام بنادیں گے۔ لاء کمیشن کی طرف سے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے سلسلے میں جاری سوالنامے کو بے مقصد اور بے معنی قرار دیتے ہوئے جناب روشن بیگ نے اس سوالنامہ کا بائیکاٹ کرنے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکی طرف سے لئے گئے فیصلے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور کہاکہ قانون شریعت پر حملہ کرنے مرکزی حکومت کی کسی بھی کوشش کے خلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے جو موقف اپنایا جائے گا، مسلم قیادت اس کا بھرپور ساتھ دے گی اور شانہ بہ شانہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جدوجہد کا حصہ بنے گی۔ تین طلاق کے مسئلے پر مرکزی حکومت کی طرف سے کئے جارہے پروپگنڈہ کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون شریعت نے کبھی عورتوں پر ظلم نہیں کیا ہے۔ مٹھی بھر خواتین کو مشتعل کرکے بی جے پی کی مرکزی حکومت طلاق ثلاثہ کے تنازعہ کو ہوا دینے کی کوشش کررہی ہے اور اسی کی آڑ میں سپریم کورٹ میں یہ حلف نامہ داخل کردیا کہ وہ تین طلاق کو ختم کردینے کے حق میں ہے، حکومت کی یہ حرکت دراصل قانون شریعت پر راست حملہ کے مترادف ہے۔اس کے ذریعہ حکومت یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش بسیار کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مطلقہ خواتین کی تعداد ہی کتنی ہے کہ ان سے مرکزی حکومت کو ہمدردی پیدا ہوگئی ہے۔ خواتین سے ناانصافی کا اگر حکومت کو اتنا ہی خیال ہے تو سب سے پہلے مسلم خواتین کیلئے بہتر تعلیمی مواقع ، روزگار ، تجارتی میدان میں آگے بڑھنے کا موقع اور صنعتیں قائم کرنے کیلئے سہولیات فراہم کرنے کی فکر کرے۔ اس کی بجائے مطلقہ خواتین پر ظلم کے بہانے قانون شریعت میں مداخلت کی مذموم حرکت سے باز آجائے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنا اتنا آسان نہیں ہے، لیکن اگلے سال ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول کو گرمانے اور اس میں اپنی روٹیاں سینکنے کے مقصد سے بی جے پی نے یہ شوشہ چھوڑا ہے۔ مرکزی حکومت کی ایسی کسی بھی کوشش کی شدت کے ساتھ مخالفت کی جائے گی۔ طلاق ثلاثہ کے متعلق آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے شروع کی گئی دستخطی مہم کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ مردوخواتین کو اس مہم کا حصہ بناکر کروڑوں کی تعداد میں دستخط لئے جائیں اور مرکزی حکومت کو یہ سوچنے پر مجبور کیاجائے کہ عوام کی اتنی بڑی تعداد کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک میں کوئی قانون نافذ نہیں کیاجاسکتا۔ 


Share: